Thursday, October 20, 2016

Books Read

غیبت ہے کیا ؛
غیبت میں بیاں ہوتی نہیں کسی کی اچھائی
پیٹھ پیچھے سب کی بیاں ہوتی ہے برائی
سورہ الحجرات میں ہے اللہ نے فرمایا
آیت نمبر بارہ ہے ہمارے  لیے سرمایا
ہمارے پیارے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کا ہے جوفرمان
غیبت سے  نہ گنواؤں دونوں جہان
احادیث سے ملتی ہے جو غیبت کی تعریف
یکجا دو قالب کو بنا دیتی ہے حریف
سامنے والے کے متعلق ایسی باتیں کرنا
پیٹھ پیچھے نہ ہو جھگڑا ہو جائے وگرنا
اگر اس میں موجود نہیں وہ برائی
پھر مکمل بہتان ہےیہ ہے حدیث کی گواہی
کئی معاملات میں غیبت کرنا جائز ہے

نہ ہو بیان برائی تو فرعونیت فائز ہے
احادیث مبارکہ  سےجوہوا معلوم
غلط بات کی تردید کرو موجود ہو جہاں ہجوم
کسی نادان کی غلط دعا پر
پیٹھ پیچھے کی برائی نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اس کی ادا پر

 نکاح کے پیغام میں غیبت ضروری ہے
فرمان رسول ہے یہ مجبوری ہے
 پوچھا گیا نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم سےکیسا ہے وہ انسان
پیغام نکاح تھا غیبت بنی آمان
عمل نبی سے جو ملتا ہے پیغام
ایسے مواقع پربغیر غیبت کے نہیں اچھا انجام
ظالم کے خلاف مظلوم کی شکایت
بنا غیبت کے ہوتی نہیں مکمل یہ حکایت
یہاں بھی مگر شرط کا ہے وجود
کہ ظلم کو دفع کرنے کی عادت ہو جہاں موجود
برائی جہاں پنپ رہی ہو اصلاح ہو ضروری
ایسے گروہ کی اصلاح کی خاطر غیبت ہے مجبوری
یہاں پر بھی شرائط ہے لازمی
اصلاح کی خاطر کرے غیبت عدالت میں کاظمی
عالم ہو یا ہو جاہل کوئی
فتوے کے بنا ہو اصلاح کھوئی
ایسے معاملات میں بھی غیبت کرنا فرض ہے
جاہل کی اصلاح بھی ہم پر قرض ہے

غیبت کرنے کی جائز صورتیں ہے کافی
مانگ لے رب سے ابھی سے ہم معافی
شادی بیاہ کا معاملا ہو یا لینا ہو مکان
امانت اور دیانت سے سونپنا ہو سامان
ناواقفیت سے کھائے نہ دھوکا بتانا ہے ضروری
غیبت نہیں وقت کی ہے بڑی مجبوری
اگر معلوم ہو جائے فلاں ہے شر انگیز
نقصانات کے معاملات میں ہے بڑا وہ تیز
وقت کی مناسبت سے بننا عدالتی گواہ
غیبت کے زمرے میں آتی نہیں ادا
فسق و فجور پھیلانے والے انسان
غیبت کرنا ثواب ہےانکی اس جہان
بدعات گمراہی اور ظلم وفجور کے فتنے
غیبت کی اشاعت کے بنا کبھی نہیں مٹنے
برے القاب بھی غیبت میں نہیں شامل
مستقل اگر نام ہو اس کا ابے مسعود کامل
باقی معاملات میں مانگے رب سے معافی
بوجھ اتنا ڈال کہ رحمت ہو تیری کافی

1 comment: